بنگلورو۔8؍مارچ(ایس او نیوز) آج جمعرات سے ریاست بھر میں پی یو سی سال دوم کے امتحانات شروع ہورہے ہیں۔ امتحانات کو سخت نگرانی میں کروانے کیلئے محکمۂ تعلیمات نے تمام تر انتظامات کرلئے ہیں۔ ساتھ ہی امتحان کے بعد جوابی پرچوں کی جانچ بروقت کرانے کی بھی تیاری کی جاچکی ہے۔ جوابی پرچوں کی جانچ کا اگر لکچرارس نے بائیکاٹ کیا تو ان کے خلاف سزائے قید سمیت سنگین اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ یہ تنبیہ آج وزیر برائے بنیادی وثانوی تعلیمات تنویر سیٹھ نے کی ۔
اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مختلف انجمنوں سے وابستہ لکچرارس نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ جوابی پرچوں کی جانچ میں وہ شامل رہیں گے، اگر کسی لکچرار نے جوابی پرچوں کی جانچ کا دانستہ طور پر بائیکاٹ کیا تو تعلیمی قوانین کے تحت اس کے خلاف کارروائی کی گنجائش ہے۔ ایسے لکچرارس پر فوجداری مقدمے درج کئے جائیں گے اور انہیں جیل بھیج دیا جائے گا، اسی لئے پی یو سی جوابی پرچوں کی جانچ کو لے کر طلبا یا والدین کو کسی طرح کے خدشات میں مبتلا ہونے کی ضرورت قطعاً نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ سال گزشتہ پی یو سی امتحان سے عین قبل پرچۂ سوالات کے افشاء کی وجہ سے جو پریشانی کھڑی ہوئی تھی، امسال ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے پائے اس کیلئے محکمہ نے تمام تر احتیاطی قدم اٹھائے ہیں۔ یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ ہونہار طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ کا کسی کو موقع نہ ملے۔
انہوں نے کہاکہ اساتذہ اور لکچرارس کی جائز مانگوں کو پورا کرنے کی حکومت پابند ہے۔ لیکن امتحانات کے اہتمام اور جوابی پرچوں کی جانچ میں رخنہ اندوزی کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ اس بار امتحانات بھی بروقت اور پرسکون ہوں گے، اور جوابی پرچوں کی جانچ بھی بروقت ہوگی۔ سرکاری لکچرارس نے اگر جوابی پرچوں کی جانچ نہیں کی تو ان کی جگہ ایڈیڈ اور پی یو کالجوں کے لکچرارس کو طلب کرکے ان سے جوابی پرچوں کی جانچ کرائی جائے گی۔نہ صرف پی یو سی بلکہ ایس ایس ایل سی امتحان کے معاملے میں بھی ریاستی حکومت یہی رویہ اپنائے گی۔ایس ایس ایل سی کے جوابی پرچوں کی جانچ کرنے سے بھی اگر اساتذہ نے انکار کیا تو اس صورت میں بھی حکومت ایڈڈ یا پرائیویٹ اساتذہ کی خدمات حاصل کرے گی۔
تنویر سیٹھ نے بتایاکہ آج ہی اساتذہ اور لکچرارس کی پانچ الگ الگ یونینوں کے عہدیداران نے ان سے ملاقات کرکے تیقن دیا ہے کہ کسی بھی حال میں امتحانی پرچوں کی جانچ میں رکاوٹ آنے نہیں دی جائے گی۔ریاستی حکومت نے طے کیا ہے کہ لکچرارس اور اساتذہ کو ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کے مطابق تنخواہ دی جائے گی۔ تنخواہ پر نظر ثانی کے مرحلے میں امتیاز کی جو بھی شکایات ہیں انہیں بھی دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اساتذہ اور لکچرارس کو بروقت انکریمنٹ مل رہاہے۔
پی یو سی امتحانات کیلئے تیاری:اس موقع پر تنویر سیٹھ نے بتایاکہ ریاست بھر میں کل سے شروع ہونے والے پی یو سی امتحان کے دوران کسی بھی طرح کی دھاندلی نہ ہونے پائے اس کیلئے محکمۂ تعلیمات سخت نگرانی کررہا ہے۔ پرچۂ سوالات کے افشاء کو روکنے کیلئے پہلے ہی کئی قدم اٹھائے جاچکے ہیں، ان کے علاوہ امتحانی مرکز میں کسی بھی طرح کی دھاندلی نہ ہو اس کیلئے بھی ضروری قدم اٹھاتے ہوئے ہر امتحانی مرکز کے اطراف واکناف سخت امتناعی احکامات لاگو کئے جاچکے ہیں۔ تنویر سیٹھ نے بتایاکہ کل شروع ہونے والے امتحان میں جملہ 6.84 لاکھ طلبا حصہ لیں گے۔ان میں 2.58لاکھ لڑکے، اور 2.90 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔ امتحانات میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ نہ ہو اس کیلئے ضلعی انتظامیہ اور محکمۂ تعلیمات کی طرف سے غیر معمولی اقدامات کئے گئے ہیں۔ پرچۂ سوالات افشاء نہ ہونے پائے اس کیلئے تمام ضلعی مراکز میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی نگرانی میں پرچۂ سوالات بحفاظت رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پرچۂ سوالات جس مقام پر رکھے گئے ہیں وہاں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں، تاکہ کسی بھی نقل وحرکت پر ہمہ وقت نظر رکھی جاسکے۔ تنویر سیٹھ نے بتایاکہ جس طرح انتخابی ووٹوں کی گنتی کیلئے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے جاتے ہیں اسی طرز پر پی یو سی امتحان کے پرچوں کی بھی حفاظت کی جارہی ہے۔ریاست بھر میں پی یو سی امتحان کیلئے 2174 مراکز قائم کئے جارہے ہیں۔ ان میں سے 1714 عام زمرے میں آتے ہیں، 309 کو حساس اور 152کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔ہر امتحانی مرکز کے 200میٹر کے دائرہ میں امتناعی احکامات لاگو کئے گئے ہیں جہاں پر طلبا سمیت کسی کو بھی گروپ کی شکل میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی کھڑے رہنے کی اجازت دی جائے گی۔امتحان گاہ سے قریب تقریباً دوسو میٹر کے دائرہ میں تمام زیراکس کی دکانیں بند کی جاچکی ہیں۔ انہوں نے طلبا سے گذاش کی کہ امتحان لکھنے کیلئے پہنچنے میں وقت کی پابندی کا خاص خیال رکھیں ، امتحان کے وقت سے اگر پندرہ منٹ پہلے ہی پہنچ جائیں تو اس سے طلباکو کافی آسانی ہوگی۔